8 اکتوبر، 2026، 10:48 AM

برطانیہ کی اسرائیل کو 27 سفارت کاروں کی بے دخلی کی دھمکی

برطانیہ کی اسرائیل کو 27 سفارت کاروں کی بے دخلی کی دھمکی

لندن نے خبردار کیا ہے کہ اگر تل ابیب نے مقبوضہ قدس میں برطانوی قونصل خانے کو بند کرنے کا فیصلہ واپس نہ لیا تو برطانیہ اسرائیل کے 27 سفارت کاروں اور ان کے اہل خانہ کو ملک سے نکال دے گا۔

مہر خبررساں ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، برطانیہ نے صہیونی حکومت کو خبردار کیا ہے کہ اگر تل ابیب نے مقبوضہ قدس میں برطانوی قونصلیٹ جنرل کو بند کرنے کا حکم واپس نہ لیا تو لندن اسرائیل کے 27 سفارت کاروں اور ان کے اہل خانہ کو ملک سے بے دخل کر دے گا۔

برطانوی سفیر سائمن والٹرز نے اسرائیلی حکام تک یہ پیغام پہنچایا۔ اسرائیلی ویب سائٹ وائی نیٹ نے پریس ٹی وی کے حوالے سے یہ خبر دی ہے۔

رپورٹ کے مطابق لندن نے فیصلہ کیا ہے کہ اگر قونصل خانہ بند کیا گیا اور اس کے نتیجے میں برطانوی مشن کے 27 اہلکاروں کا سفارتی درجہ ختم ہوا تو برطانیہ بھی ہر ایک کے بدلے ایک اسرائیلی سفارت کار کو ملک سے نکال دے گا۔

برطانوی دفتر خارجہ نے اس رپورٹ پر تبصرہ کرنے سے انکار کیا ہے، تاہم اس کی تردید بھی نہیں کی۔

اسرائیلی وزیر خارجہ گیڈیون ساعر نے قونصل خانہ 8 اکتوبر، جمعرات تک بند کرنے اور اس کے عملے کی سفارتی اسناد منسوخ کرنے کا حکم دیا ہے۔ شیخ جراح کے علاقے میں واقع یہ قونصل خانہ تل ابیب میں موجود برطانوی سفارت خانے سے الگ کام کرتا ہے اور مشرقی قدس، مقبوضہ مغربی کنارے اور غزہ کی پٹی میں فلسطینیوں سے متعلق سیاسی اور قونصلر امور انجام دیتا ہے۔

یہ اقدام برطانیہ کی جانب سے گزشتہ ماہ غیر قانونی اسرائیلی بستیوں سے درآمد ہونے والی اشیا پر پابندی عائد کیے جانے کے ردعمل میں کیا گیا ہے۔ برطانوی وزیر خارجہ ایڈ ملی بینڈ نے فرانس اور کینیڈا کے ساتھ مل کر یہ اقدامات کیے تھے۔ ان ممالک نے فلسطینیوں کے خلاف اسرائیلی پالیسیوں اور بستیوں کی توسیع کے حوالے سے اپنے اقدامات کا اعلان کیا تھا۔

برطانوی پابندی ایسے وقت میں سامنے آئی جب اسرائیل نے مقبوضہ علاقوں میں ایک ہزار سے زائد نئی آبادکار رہائش گاہیں تعمیر کرنے کے منصوبے کا اعلان کیا تھا۔ بین الاقوامی قانون کے تحت اسرائیلی آبادکاریوں کو غیر قانونی سمجھا جاتا ہے۔

گیڈیون ساعر نے برطانیہ کے فیصلے کو اخلاقی طور پر مسخ شدہ قرار دیتے ہوئے لیبر حکومت پر اسرائیل سے دشمنی اور اس کے اندرونی معاملات میں مداخلت کا الزام عائد کیا۔

اسرائیلی وزیر خارجہ کے جوابی اقدامات میں غزہ کے رابطہ مرکز سے برطانوی نمائندوں کو نکالنا، فلسطینی اتھارٹی کی سکیورٹی فورسز کی برطانوی تربیت ختم کرنا اور 12 برطانوی شخصیات کے اسرائیل میں داخلے پر پابندی شامل ہے۔ ان شخصیات میں لیبر پارٹی کے سابق سربراہ جیریمی کوربن بھی شامل ہیں۔

برطانوی قومی سلامتی کے مشیر جوناتھن پاول نے گزشتہ ہفتے مقبوضہ فلسطینی علاقوں کا غیر اعلانیہ دورہ بھی کیا تھا۔ ذرائع نے رائٹرز کو بتایا کہ ان کا مقصد برطانوی قونصل خانے کو بند ہونے سے بچانے کی کوشش کرنا تھا، تاہم مذاکرات کسی معاہدے کے بغیر ختم ہوگئے۔ گیڈیون ساعر کے ترجمان نے بھی تصدیق کی کہ قونصل خانہ اعلان کردہ منصوبے کے مطابق جمعرات کو بند کر دیا جائے گا۔

برطانیہ کے سابق اٹارنی جنرل ڈومینک گریو نے دفتر خارجہ کو مشورہ دیا ہے کہ اسرائیلی حکومت کے پاس برطانوی قونصل خانے کو بند کرنے کا قانونی اختیار نہیں ہے۔

مشرقی قدس کو اقوام متحدہ اور برطانیہ دونوں مقبوضہ فلسطینی علاقہ تسلیم کرتے ہیں۔ برطانوی حکام کے مطابق وہاں قونصل خانے کا برقرار رہنا قدس پر اسرائیلی خودمختاری کو تسلیم کرنے کے مترادف نہیں ہے، کیونکہ شہر کی حتمی حیثیت اب بھی مذاکرات کے ذریعے طے ہونا باقی ہے۔

گریو کے مطابق قونصل خانے کی بندش کا سب سے زیادہ اثر فلسطینیوں پر پڑے گا، کیونکہ اس سے قونصلر خدمات، امدادی سرگرمیوں کی نگرانی اور مغربی کنارے و غزہ سے متعلق رپورٹنگ متاثر ہوگی۔

اگر برطانیہ واقعی 27 اسرائیلی سفارت کاروں کو ملک سے نکال دیتا ہے تو لندن میں اسرائیلی سفارت خانے کی سفارتی سرگرمیاں شدید متاثر ہوسکتی ہیں۔ اسرائیلی سفارت خانہ پہلے ہی ایک سال سے زائد عرصے سے سفیر کے بغیر کام کر رہا ہے۔

یہ تنازع ایسے وقت میں برطانیہ اور اسرائیل کے درمیان تعلقات میں مزید کشیدگی کا باعث بن رہا ہے جب دونوں ممالک کے درمیان اسرائیلی بستیوں کی توسیع اور غزہ میں جاری جنگ کے معاملے پر پہلے ہی اختلافات موجود ہیں۔

News ID 1941954

لیبلز

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
  • captcha